Radio Balochi FM  88MHZ  101,1MHZ which plays Balochi music from all times and all parts of Balochistan. It talks also about Baloch people, Balochistan and much more....
Navigation
Home
Balochistan
Links
Photos
Old Programs
Articles

UngdomarYouthجوانان

Guestbook
Balochistan news

تنها شانس زنده ماندن اين صدا با رسيدن کمکهاي مالي شماست.کمک مالي شما تنها منبع درآمد اين صداست

POSTGIRO 

141 24 05- 1

Anjouman   TAFTAN SWEDEN

Please  SUPPORT   your own radio.    

 Bank account:

POSTGIRO 

141 24 05- 1

Anjouman   TAFTAN SWEDEN

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

پخش گفتگوی رادیو بلوچی اف ام با شهید وطن اکبر بگتی در "جیرگه" روز پنجشنبه کلات بلوچستان با حضور بیشتر از بیست هزار نفر    

Balochistan grand jirga calls for restoration of pre-partition status of the province

Friday September 22, 2006 (0326 PST)

KALAT: The ever grand jirga in the history of Balochistan has been held under Khan of Kalat after 130 years calling upon people of Balochistan to unite on one platform to seek restoration of pre-partition status of Balochistan besides condemning the killing of Nawab Akbar Bugti.

The jirga was held in Shahi Jirga Hall here Thursday. Over 95 tribal chiefs from Balochistan, Punjab and Sindh, tribal elders and Nawabs besides people in large number attended the jirga. Nawab of Kalat Mir Suleman Khan presided over jirga.

Chief of Chalawan, Sardar Sana Ullah Zehri, Chief of Sarwan, Nawab Aslam Raeesani, Mir Balakh Sher Mazari, Sardar Yar Muhammad Jamali, Sardar Akhtar Jan Mengal, Nawab Zulfiqar Ali Magsi, former chief minister Sardar Taj Muhammad Jamali, Sardar Aziz Ahmad Lehri and others participated in the jirga.

The speakers while addressing the jirga said there is no room left for Baloch nation to live in Pakistan now. Balochistan was an independent state and it was not part of united India. It was forcibly annexed to Pakistan and Baloch nation was divided in three provinces of Punjab, Sindh and Balochistan under a conspiracy. The border line of the province be abolished.

They underlined that the need is there that all the political parties and people of Balochistan are united under one flag to achieve this objective.

The speakers alleged the blood carnage is raging in Balochistan. The rulers are meeting out step motherly treatment to the province. Our political parties should get untied on one platform and work out strategy to challenge Pakistan-Balochistan annexation accord in international court of justice.

They demanded the people of Balochistan be give access to the resources of their province.

An interview of Nawab Akbar Bugti recorded by a Balochi radio was also relayed at the conclusion of jirga. This saddened the environment. Bugti said in interview that his war is for protection of sovereignty of Baloch nation and their rights. We are not anti development. The development is that which is in accordance with the requirement of Baloch nation. On the other hand government dubs establishment of garrisons and air fields as development, he added.

http://www.paktribune.com/news/index.shtml?154951

 

Balochistan grand jirga calls for restoration of pre-partition status of the province

KALAT: The ever grand jirga in the history of Balochistan has been held under Khan of Kalat after 130 years calling upon people of Balochistan to unite on one platform to seek restoration of pre-partition status of Balochistan besides condemning the killing of Nawab Akbar Bugti.

The jirga was held in Shahi Jirga Hall here Thursday. Over 95 tribal chiefs from Balochistan, Punjab and Sindh, tribal elders and Nawabs besides people in large number attended the jirga. Nawab of Kalat Mir Suleman Khan presided over jirga.

Chief of Chalawan, Sardar Sana Ullah Zehri, Chief of Sarwan, Nawab Aslam Raeesani, Mir Balakh Sher Mazari, Sardar Yar Muhammad Jamali, Sardar Akhtar Jan Mengal, Nawab Zulfiqar Ali Magsi, former chief minister Sardar Taj Muhammad Jamali, Sardar Aziz Ahmad Lehri and others participated in the jirga.

The speakers while addressing the jirga said there is no room left for Baloch nation to live in Pakistan now. Balochistan was an independent state and it was not part of united India. It was forcibly annexed to Pakistan and Baloch nation was divided in three provinces of Punjab, Sindh and Balochistan under a conspiracy. The border line of the province be abolished.

They underlined that the need is there that all the political parties and people of Balochistan are united under one flag to achieve this objective.

The speakers alleged the blood carnage is raging in Balochistan. The rulers are meeting out step motherly treatment to the province. Our political parties should get untied on one platform and work out strategy to challenge Pakistan-Balochistan annexation accord in international court of justice.

They demanded the people of Balochistan be give access to the resources of their province.

An interview of Nawab Akbar Bugti recorded by a Balochi radio was also relayed at the conclusion of jirga. This saddened the environment. Bugti said in interview that his war is for protection of sovereignty of Baloch nation and their rights. We are not anti development. The development is that which is in accordance with the requirement of Baloch nation. On the other hand government dubs establishment of garrisons and air fields as development, he added.

http://www.onlinenews.com.pk/details.php?id=102653

 

حقوق کی لڑائی کے لیئے بلوچ جرگہ


میر سلیمان داؤد احمد زئی کے لیئے خاندانی روایات کو زندہ کرنے کا ایک موقع

بلوچستان کے مقام قلات میں گزشتہ روز ہونے والے بلوچ قبائلی سرداروں کے جرگے کے ذریعے ایک ایسے ادارے یا فورم کے احیاء کی کوشش کی گئی ہے جس کا ذکر اب صرف تاریخ کی کتابوں میں ہی ملنے لگا تھا۔

میر سلیمان داؤد احمد زئی کی طرف سے بلائے گئے اس جرگہ میں اطلاعات کے مطابق پچاسی بلوچ سرداروں اور تین سو کے لگ بھگ قبائلی معتبرین نے شرکت کی۔ سلیمان داؤد آخری خان آف قلات احمد یار خان کے پوتے ہیں۔

قلات تقسیم ہند تک ایک خود مختار ریاست کے طور پر نقشے پر موجود تھی۔ ریاست قلات میں مکران، لسبیلہ اور خاران کے علاقے آتے تھے جبکہ کوئٹہ، نوشکی، نصیرآباد، سبی اور بولان کے علاقے خان آف قلات نے برطانوی حکومت کو مستاجری پر دیئے ہوئے تھے۔ مستاجری پر دیئے گئے علاقوں کو بدیسی حکمرانوں نے فوجی اہمیت کے پیش نظر اور ذرائع رسل و رسائل کی ترقی کے لیئے سنہ اٹھارہ سو بہتر میں سو سالہ پٹے پر حاصل کیا تھا۔

خان آف قلات اپنے محل میں سالانہ جرگہ کیا کرتے تھے جس میں بیشتر بلوچ قبائلی سردار شرکت کرتے تھے۔ ان جرگوں کا بظاہر مقصد تو قبائل کے درمیان تنازعات نمٹانا ہوتا تھا لیکن ان کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا تھا کہ اس موقع پر تمام سردار خان آف قلات سے عہد وفاداری کا اعادہ بھی کرتے تھے۔

جرگوں میں چیف آف جھلاوان ( زہری قبیلے کے سربراہ) خان آف قلات کے دائیں طرف اور چیف آف ساراوان (رئیسانی قبیلے کے سربراہ) بائیں طرف بیٹھتے تھے۔ جرگہ میں کیئے گئے فیصلوں کا اعلان چیف آف جھلاوان کرتے تھے۔ اسی روایت کو گزشتہ روز ہونے والے جرگہ میں بھی دہرایا گیا۔

اگرچہ کہا جارہا ہے کہ اس سے قبل خان آف قلات کی طرف سے آخری جرگہ سنہ اٹھارہ سو چھہتر میں بلایا گیا تھا، لیکن بلوچ تاریخ پر نظر رکھنے والے دانشور اللہ بخش بزدار کہتے ہیں کہ پندرہ ستمبر سنہ انیس سو ستاون کو خان آف قلات احمد یار خان نے ایک جرگہ بلایا تھا جس میں بلوچ سرداروں کی طرف سے ان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا۔
اس جرگہ میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت پاکستان خان آف قلات سے کیئے گئے معاہدے پر عمل کرے جس کی رو سے ریاست قلات کو اندرونی خود مختاری حاصل تھی۔

’معاہدہ جاریہ‘ کے نام سے سامنے آنے والے اس معاہدے پر اتفاق گیارہ اگست سنہ انیس سو سینتالیس کے روز دہلی میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا تھا۔ اس اجلاس کی صدارت وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کی جبکہ خان آف قلات کے نمائندؤں اور پاکستان مسلم لیگ کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔

معاہدے کی رو سے ریاست قلات کی اندرونی خود مختاری کے علاوہ یہ طے کیا گیا تھا کہ مرکزی حکومت کے پاس صرف دفاع، خارجہ اور رسل و رسائل کے شعبے ہونگے جبکہ حکومت برطانیہ کو مستاجری پر دیئے گئے علاقوں کے مستقبل کے بارے میں دونوں فریقین (خان آف قلات اور حکومت پاکستان) کے نمائندؤں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیشن فیصلہ کرے گا۔ مزید یہ کہ قلات اور بلوچستان کے باقی حصوں کے بارے کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے خان آف قلات کی اجازت ضروری ہوگی۔

لیکن قیام پاکستان کے کچھ ماہ بعد ہی تیس مارچ انیس سو اڑتالیس کے روز پاکستانی افواج نے قلات پر حملہ کر کے ریاست کا کنٹرول سنبھال لیا۔ پندرہ اپریل کے روز حکومت پاکستان کے نمائندے نےگورنر جنرل (قائد اعظم) محمد علی جناح کا ایک رقعہ خان آف قلات احمد یار خان کے حوالے کیا، جس کی رو سے انہیں ’خانِ خاناں‘ کے خطاب سے محروم اور صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے خان بہادر رشید زمان خان کو قلات میں پولیٹکل ایجنٹ مقرر کردیا گیا۔ صوبہ سرحد سے ہی تعلق رکھنے والے ظریف خان کو حکومت پاکستان نے ازخود خان آف قلات کا وزیر اعظم مقرر کر دیا۔

خودمختاری کے چند ماہ کے دوران خان آف قلات نے ایوان بالا اور ایوان زیریں بھی تشکیل دیئے تھے، جنہوں نے پاکستان سے الحاق کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ قلات میں ہونے والے فوجی آپریشن میں ریاست کے ایوان بالا اور ایوان زیریں کے نمائندوں اور قلات نیشنل پارٹی کی قیادت کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

ستمبر انیس سو ستاون میں جرگے سے ’اعتماد کا ووٹ‘ حاصل کرنے کے بعد احمد یار خان اس وقت کے گورنر جنرل سکندر مرزا کے پاس گئے اور انہیں جرگے کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریاست قلات کے ساتھ کیئے گئے معاہدہ کی پاسداری کی جائے۔

سکندر مرزا نے خان کو پندرہ روز کے لیئے اپنا مہمان ٹھہراتے ہوئے تجویز دی کہ وہ اپنے مطالبے کے حوالے سے قانونی ماہرین سے مشورہ کریں۔ محققین کے مطابق اس دوران قلات میں ریاست کے جھنڈے لہرا دیئے گئے۔ لیکن جنرل ایوب کے مارشل لاء کے ساتھ ہی احمد یار خان کو حراست میں لے کر لاہور میں نظر بند کر دیا گیا۔ وہ چار سال تک نظر بند رہے۔

ستر کی دہائی میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت برخاست کرکے نواب اکبر بگٹی کو گورنر بنا کر بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کردیا۔ تاہم نواب بگٹی کے چند ہی ماہ میں مرکزی حکومت سے اختلافات پیدا ہوگئے جو ان کے استعفیٰ پر منتج ہوئے۔ بگٹی کی جگہ (خان آف قلات) احمد یار خان کو بلوچستان کا گورنر بنایا گیا تھا۔

سنہ انیس سو چھہتر میں کوئٹہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران وزیر اعظم بھٹو نے جب بلوچستان میں سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کیا تو احمد یار خان بطور گورنر سٹیج پر تشریف فرما تھے۔

ضیاء دور میں احمد یار خان کے فرزند پرنس معین الدین وفاقی وزیر رہے اور موجودہ دور میں بھی خان آف قلات کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے تقریباً پانچ افراد مختلف سطح پر حکومت میں شامل ہیں۔

خان آف قلات کے زیر اثر زیادہ تر براہوی زبان بولے جانے والے علاقے آتے ہیں جبکہ مری بگٹی سمیت بلوچی زبان بولے جانے والے علاقوں کے سرداروں نے تاریخی طور پر خان کی حاکمیت کو کم ہی تسلیم کیا ہے۔ ان قبائل کے سرداروں کو برطانوی دور کے ایک زیرک افسر رابرٹ سنڈیمن نے خان آف قلات کے دربار میں لے جانا شروع کیا تھا تاکہ خان کی خوشنودی حاصل کی جا سکے۔

گزشتہ روز ہونے والے جرگہ میں مری اور بگٹی قبائل کی طرف سے اگرچہ کوئی بھی موجود نہیں تھا لیکن جرگہ کی کارروائی کا آغاز اطلاعات کے مطابق نواب اکبر بگٹی کا ایک حالیہ انٹرویو حاضرین کو سنا کر کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نواب بگٹی کی پاکستانی فوج سے لڑتے ہوئے موت اور اس سے بلوچستان کے قوم پرست حلقوں میں پیدا ہونے والی غم و غصہ کی لہر نے سلیمان داؤد کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں اپنے خاندان کی گم گشتہ حیثیت کو بحال کر سکیں اور جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں۔

قلات میں ہونے والے جرگہ سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ پسماندہ رہ جانے والے صوبہ بلوچستان میں حقوق کی لڑائی اب سیاسی اور قبائلی سطح پر ساتھ ساتھ لڑی جائے گی۔ اس قبائلی جرگہ میں پہلی دفعہ بڑی تعداد میں سیاسی کارکنوں، دانشوروں اور طالبعلم رہمناؤں نے بھی شرکت کی۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/09/060923_qalat_jirga_analysis_as.shtml

 

Related links:

بلوچوں کے حقوق کی لڑائی قلات کے جرگے میں

Balochistan grand jirga calls for restoration of pre-partition status of the province

کراچی سے بلوچ صحافی لاپتہ

 

 

Sunday Live Broadcasting

Live on CityRadio.Nu 1

Live on CityRadio.Nu 2

Live on CityRadio.Nu 3

توجه

راديو بلوچي اف ام هيچگونه مسئوليتي درقبال محتوي مقاله هاي چاپ شده دوستان وسخنان مهمانهاي راديو ندارد.چاپ و پخش آنها به معني تائيد آنها نيست

Supported Players

Download RealPlayer

Advertise

Advertise your products for 30 us $ per year

 

Copyright Radio Balochi FM © 2000. All Rights Reserved.